उर्दू खबर (اردو خبر) 

اس مولوی نے چار بچیوں کے ساتھ شرمناک حرکت کی ہے جان کے روح کپ اٹھے

ایک آدمی جو بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا. اب اس 81 سال کی عمر میں 13 سال کی جیل کی سزا سنائی گئی ہے. اس آدمی کا جرم ایسا ہے کہ کوئی بھی سن کر دنگ رہ جائے. کیونکہ جو قرآن پڑھاتا ہو یا پھر مسجد کا امام ہو تو اس کے بارے میں کوئی مسلمان یہ نہیں سوچ سکتا کہ وہ بھی کچھ غلط کر سکتا ہے. کیونکہ سب اس کا احترام کرتے ہیں. برطانیہ کے اس مولوی پر الزام ہے کہ اس نے قرآن پڑھانے کے دوران چار لڑکیوں پر جنسی حملہ کیا. ان کے ساتھ جنسی تعلقات کے لئے ان غلط طریقے سے چھوا. مکمل رپورٹ پڑھ کر خوف آتا ہے. کیونکہ اپنے بچوں کو مدرسے بھیج کر مسلمان مہپھوز سمجھتے ہیں. اور اس مہپھوز جگہ پر ہی ان کے بچوں کو سےكشلي ٹارچر کیا جائے تو حیرانی تو ہوگی ہی.

محمد حاجی صادق نے 30 سالوں تک کارڈف مدینہ مسجد میں اسلام کی تعلیم دی اور اس دوران سزا کے نام پر چار بچیوں کو سےكشلي هےرےس کیا. کورٹ نے اس الزام کو حق حاصل کرنے کے بعد اس کی سزا سنائی ہے.
برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مولوی 5 سے 11 سال کی لڑکیوں کو ان کے اگلے بٹھاتا تھا اور انہیں غلط طریقے سے چھوتی تھا. ڈےليمےل کی رپورٹ کے مطابق مسجد کی بچیاں حاجی صادق کو انکل کہا کرتی تھیں. لیکن یہ مولوی انہیں چھوتی، ان کے لباس میں ہاتھ رکھتا، اور انہیں اپنے پیروں اور رانوں سے رگڑتا. مدینہ مسجد میں محمد حاجی صادق 36 سالوں سے بچوں کو قرآن پڑھنا سکھا رہا تھا.
کارڈف کراؤن کورٹ میں پولیس نے بتایا کہ صادق کے پاس لوہے اور لکڑی کی چھڑی تھی. اس کا استعمال وہ بچوں کو پڑھانے کے دوران تیز کے لئے کرتا تھا. بچیوں کو سےكشلي هےرےس کرنے کا یہ سلسلہ 1996 سے 2006 کے درمیان یعنی پورے 10 سالوں تک چلا.
سرکاری وکیل سوزین تھامس نے لڑکیوں کے عجیب تجربہ کورٹ میں بتائے.

ایک لڑکی کا کہنا ہے، ‘میں نے رات کو ڈر جاتی تھی، مجھے ڈراؤنے خواب آتے تھے، میں خود کو مہپھوز محسوس نہیں کرتی تھی.’
ایک دوسری لڑکی نے بتایا، ‘مجھے لگتا تھا کہ میرے جسم پر میرا حق نہیں ہے. جہاں مجھے خود کو محسوس کرنا چاہئے تھا، وہاں میں خود کو ڈرا ہوا محسوس کرتی تھی، محمد صادق نے مجھے میرے مذہب سے دور کر دیا تھا. ‘
برطانوی عدالت نے صادق کو 13 سال کی تو سزا سنائی ہی، ساتھ ہی اسے غیر معینہ مدت کے لئے جنسی مجرم کے طور پر رجسٹر کر لیا. اس کیس میں عدالت نے شکایت درج کرانے والی چاروں لڑکیوں کی تعریف کی ہے. کہا کہ ان لڑکیوں نے بہادری دکھائی ہے. اور مجرم کو سزا دلانے کے لئے کسی بھی چیلنج کی پرواہ نہیں کی.

اس اسٹوری کو پڑھوانے پر کچھ لوگ یہ اعتراض جتا سکتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے. لیکن یہ کوئی سازش نہیں. بلکہ آنکھ پر پڑے اس پردے کو اٹھانے کی کوشش کی ہے، جو ہم مان لیتے ہیں کہ بچے مدرسے میں سیف ہیں. کیونکہ مذہب وہ پردہ بن کے ہماری آنکھوں پر پڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہم شک بھی نہیں کرتے. میں نے خود دیکھا ہے بچوں کو چھڑی سے پٹتے ہوئے. اور کئی ایسے قصے بھی سنے، جب مولوی نے صرف لڑکیوں کو ہی نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی سکھانے کے بہانے سےكشلي هےرےس کیا ہو. غلط کو غلط کی نظر سے ہی دیکھا جانا چاہئے. صرف یہ سوچكے دفاع نہیں کرنا چاہئے کہ وہ مولوی ہے یا مدرسے سے منسلک معاملہ.
مولوی سمجھ کے چھوڑ دینا ہی ایسے لوگوں کو جرم کرنے میں مدد کرتا ہے. اسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں ایسے لوگ اور بچے خوف کی وجہ سے گھر میں وہ بات بھی نہیں بتا پاتے، جو ان کے ساتھ ہوتا ہے. بچوں کو اچھے برے-چھونے کے طریقوں کو ضرور ہی بتایا جانا چاہئے. تاکہ ایسی نوبت نہ آئے.

Related News

Leave a Comment