उर्दू खबर (اردو خبر) 

شہباز شریف کے گھر کے قریب دہشت گرد حملہ

لاہور، پرےٹر: پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی اور صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کے لاہور میں واقع رہائش گاہ-شریک آفس کے قریب دہشت گردانہ حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئی ہے. پولیس فورس کو نشانہ بنا کر کیے گئے اس خود کش حملے میں 58 افراد زخمی ہوئے ہیں. تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری لی ہے.
لاہور پولیس کے سربراہ کیپٹن (ریٹائرڈ) امین وانس نے بتایا، ‘موٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور وزیر اعلی کے ماڈل ٹاؤن رہائش کے قریب واقع عارفہ کریم ٹاور کے باہر تجاوزات مخالف مہم کے لئے تعینات پولیس پارٹی کے درمیان گھس گیا اور خود کو اڑا لیا . ‘ انہوں نے بتایا کہ نو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 26 لوگوں کی موت ہو گئی ہے. ان میں ایک داروغہ، ایک اسسٹنٹ داروغہ اور سات کانسٹیبل ہیں. 58 افراد زخمی ہوئے ہیں. حملے کے وقت وزیر اعلی ان کے دفتر میں ملاقات کر رہے تھے.
تحریک طالبان کے ترجمان محمد كھراسني نے بیان میں کہا ہے، ‘ہمارے خودکش پارٹی کے فدا حسین سوات نے حملے کو انجام دیا. ہم اس ملک میں اللہ کی شریعت نافذ کریں گے. ‘
وانس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ حملہ آور نے دھماکہ کے لئے کمر میں قریب 10 کلو دھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا. وزیر اعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل کمر جاوید باجوا نے حملے کی سخت مذمت کی اور ملک سے دہشت گردوں کے سپھايے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار. وزیر اعلی شہباز نے کہا، ‘اس دکھ کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا. دھماکے نے بہت سے خاندانوں کو برباد کر دیا، لیکن دہشت گرد ہمارے ارادوں کو ڈگا نہیں سکتے. ‘
رےسكيو 1122 کی ديبا شاهناج نے بتایا، ‘پولیس اور لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے افسر عارفہ کریم ٹاور کے باہر تجاوزات ہٹانے میں مصروف تھے. شام 3:55 بجے ایک زبردست دھماکہ ہوا. ‘ انہوں نے بتایا کہ 20 افراد کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی، جبکہ چھ نے ہسپتال میں دم توڑ دیا. مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، کیونکہ کم از کم پانچ زخمیوں کی حالت بہت سنگین ہے. زخمیوں میں زیادہ تر پولیس اہلکار ہیں. شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی لاگو کیا گیا ہے. امدادی کام میں فوج کو بھی لگایا گیا ہے.
پنجاب حکومت نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے، ‘لاہور کے سرکاری اسپتال میں 29، جناح ہسپتال میں نو، اتفاق ہسپتال میں 18 زخمیوں کا علاج چل رہا ہے.’
پہلے بھی ہوئے ہیں دھماکے
پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور گزشتہ چند سالوں میں کئی حملوں کا شکار ہوئی ہے. اپریل میں یہاں مردم شماری میں مصروف ٹیم پر حملے میں چھ افراد کی موت ہو گئی تھی اور 15 افراد زخمی ہو گئے تھے. اس سے پہلے، فروری میں ایسے ہی ایک حملے میں 14 لوگوں کی موت ہو گئی تھی.

Related News

Leave a Comment