उर्दू खबर (اردو خبر) 

لاہور میں دھماکے میں 35 افراد زخمی، نواز شریف تھے نشانہ

لاہور میں ایک جلسہ عام کے لئے بدھ کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے جانے والے راستے پر دھماکہ ہوا. یہ واقعہ ایک ٹرک کے اندر رکھے ایک دھماکہ خیز مواد سامان کی وجہ سے ہوئی. اس دھماکے میں کم از کم 35 افراد زخمی ہو گئے.

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایک دھماکہ خیز مواد سامان آؤٹ شکست روڈ پر ٹرک میں چھپا کر رکھا گیا تھا. بتا دیں کہ اس راستے سے 28 جولائی کو پانامہ کاغذات کیس کے بعد نواز شریف پہلی بار اپنے شہر واپس والے تھے.

نواز شریف تھے نشانہ

اتوار کو نواز شریف پہلے مشہور گرینڈ ٹرنک روڈ کے راستے اسلام آباد سے لاہور واپس والے تھے، لیکن ان کے سفر بدھ تک ملتوی ہو گئی. ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ خیز سامان شریف کو نشانہ بنانے کے لئے رکھا گیا تھا. انہوں نے بتایا کہ بدھ کو شریف کے مارچ کے راستے کو اب نظر ثانی کی جائے گی. بتا دیں کہ دھماکہ خیز مواد سامان ٹرک میں چھپا کر رکھا گیا تھا جس میں مقامی وقت کے مطابق نو بجے پھٹ گیا. پولیس اور ریسکیو حکام نے علاقے کا محاصرہ کر دی. پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں حالیہ مہینوں میں کئی دہشت گردانہ حملے دیکھنے کو ملے ہیں.

اس سے پہلے بھی ہوئے کئی حملے

24 جولائی کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے یہاں پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کی رہائش-شریک دفتر کے قریب پولیس کی ایک ٹیم پر حملہ کر دیا تھا. اس حملے میں پولیس اہلکار سمیت 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے.

اپریل میں لاہور کے بےڈےن روڈ پر آبادی کے اعداد و شمار جمع کرنے والی ایک ٹیم پر ایک خود کش حملہ آور نے حملہ کیا تھا. اس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 15 دیگر زخمی ہو گئے تھے.

وہیں فروری میں یہاں پنجاب اسمبلی کے قریب ایک خود کش حملے میں ایک سینئر پولیس افسر سمیت 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے.

Related News

Leave a Comment