उर्दू खबर (اردو خبر) 

مسلم خواتین کے لئے حلال جنسی گائیڈ آئی ہے

ہندوستان سے لے کر برطانیہ تک کے لوگوں کو یہ ڈر ستا رہا ہے. بےذا ڈر ہے. لیکن یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی دوسرے معاشروں کی بہ نسبت تھوڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے. اس انفرادی وجوہات ہیں، جن پر کافی بحث ہو چکی ہے. پر ایک بات طے ہے آبادی تبھی بڑھ سکتی ہے، جب لوگ جنسی کریں. اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کئی مسلم عورتوں کے لئے (اور باكيو کے لئے بھی) جنسی بچے پیدا کرنے سے آگے جا ہی نہیں پاتا. اس میں اتسو کانسپٹ بہت پہلے مسترد کردیا گیا تھا.

تو ان عورتوں کی مدد کے لئے ایک کتاب آئی ہے ‘دی مسلماه جنسی مےنيل السلام حلال گائیڈ ٹو مائنڈ بلوگ جنسی.’ برطانیہ میں شائع ہوا یہ کتاب مسلم عورتوں کو جنسی سے منسلک باتیں سمجھاتي ہے. اسے دنیا کی پہلی حلال جنسی گائیڈ کہا جا رہا ہے.
ایک وقت تھا جب مسلمانوں کے لئے جنسی ٹےبو نہیں تھا

آج مسلمانوں اور جنسی کو لے کر چاہے جو کہا جائے، ایک وقت تھا جب مسلم دنیا میں جنس کو لے کر اتنا بدیہی ماحول تھا کہ وہاں پہنچنے والے یوروپین ڈیلروں تک دنگ رہ جاتے تھے. مثال کے طور پر ٹےلگراپھ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق محمد صاحب کے وقت میں جنسی کو لے کر کھل کر باتیں ہوتی تھیں. جنسی کے دوران آنند کو شادی شدہ زندگی کا اٹوٹ حصہ سمجھا جاتا تھا. سےكشل ضروریات کا مکمل کرنا ایک عورت کا حق سمجھا جاتا تھا. اگر کسی کا شوہر ایسا نہ کر پاتا، تو اس عورت کو آزادی ہوتی تھی کہ وہ اسے طلاق دے دے. لیکن وقت کے ساتھ جنسی کو لے کر ایک عجیب و غریب شرم کا ماحول تیار ہو گیا. آہستہ آہستہ جنسی ٹےبو مانا جانے لگا.

جیسے جیسے پرشوادي سوچ کا زور بڑھا، عورتوں کی زندگی پر کنٹرول بڑھتا رہا. پہلے ہالی بدلے، پھر ہاو-بھاو کو لے کر گاڈلان آئیں. ایک بهشتي زیور نام سے ایک مکمل کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ایک ‘سشیل’ مسلم عورت کا برتاؤ کیسا ہونا چاہئے. یہ سب وہاں تک جاتا ہے جہاں آخر میں جنس تک میں انہیں ایک پےسو رول میں سمیٹ دیا جاتا ہے. یہ سب اتنی دیر سے چلا آ رہا ہے کہ بہت سے عورتیں یہ جان ہی نہیں پاتیں کہ جنسی ایک ایسی کارروائی ہے جس میں عورت اور مرد برابر کے شریک ہوتے ہیں، برابر سے لطف بانٹ سکتے ہیں. لہذا بہت عورتیں ہیں، جو خوش نہیں ہیں، لیکن اس کو لے کر کیا کریں، نہیں جانتیں. یہی حالت بہت مردوں کے ساتھ بھی ہے.

ایسے میں کوئی ایسی کتاب جو جنس کے ارد گرد کے متک توڑتي ہو، بے حد ضروری ہو جاتی ہے. تعصبات کی دنیا میں ‘مسلم عورت’ پسماندگی کا استعارہ ہے اور ‘برطانیہ’ جدیدیت کا. یہ کتاب ایک برطانوی مسلم عورت نے ام ملادت نام سے لکھی ہے. تو یہ شناخت کے دوراہے پر کھڑے ہو کر لکھی گئی ہے. یہ بات اس میں دلچسپی میں اضافہ.

Related News

Leave a Comment